کل گل بخآری نے اپنے یوٹیوب شو میں براڈشیٹ کیس کے حوالے سے کئی نہایت اہم نکات اٹھائے۔ ان میں سے چند چیدہ چیدہ نکات اس #تھریڈ میں۔
براڈشیٹ کمپنی کی رجسٹریشن کی دستاویزات دیکھیں تو ان میں موسوی صاحب کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ براڈشیٹ کی مالک دو شیل کمپنیاں ہیں جو پانامہ میں رجسٹرڈ ہیں۔ یعنی براڈشیٹ کا اصل مالک کون ہے، یہ کوئی نہیں جانتا۔
نیب نے بیرون ملک اثاثوں کی برآمدگی کے لئے ایک تجربہ کار قانونی فرم سے معاہدے کا موقف اپنایا لیکن معاہدہ ایک ایسی فرم سے کیا جس کا قیام ہی معاہدے سے صرف ایک ماہ قبل عمل میں آیا تھا۔ معاہدے کے تحت ٹارگٹس کے ناموں کی لسٹ معاہدے سے قبل ہی براڈشیٹ کو دے دی گئی۔
معاہدے میں ایسی شقیں شامل کی گئیں جن کا مقصد صرف اور صرف براڈشیٹ کو فائدہ پہنچانا تھا۔ مثلآ یہ کہ اگر نیب، لسٹ میں موجود افراد سے براڈشیٹ کی معاونت کے بغیر، اپنے طور پر بھی ریکوری کرے گا تو اس کا 20 فیصد حصہ پھر بھی براڈشیٹ کو ادا کیا جائے گا۔
اور یہ کہ جن لوگوں کے نام لسٹ میں شامل ہیں ان کے حوالے سے معاہدے کو کبھی بھی ختم نہیں کیا جا سکے گا اور ان اشخاص سے جب بھی کوئی ریکوری ہوئی تو براڈشیٹ کو 20 فیصد حصہ دیا جائے گا۔
موسوی صاحب دستاویزات میں سیاستدانوں سے متعلق جو لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں وہ کسی غیر جانبدار قانونی فرم کا نہیں۔ یہ وہی لب و لہجہ ہے جو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سیاستدانوں سے متعلق اختیار کرتی ہے۔ دستاویز میں جہاں جنرل مالک کے رشوت طلب کرنے کا ذکر ہے، وہاں بھی نام عزت سے لیا گیا ہے۔
کیس کے فیصلے میں براڈشیٹ کو تقریباً 21.5 ملین پاؤنڈ ایوارڈ کئے گئے ہیں۔ ان میں ایک تقریباً ایک ملین پاؤنڈ کی رقم ان ریکوریز سے متعلق ہے جو نیب نے اپنے طور پر کیں اور معاہدے کی شق کے تحت براڈشیٹ کو 20فیصد حصہ ادا نہیں کیا۔
بقایا رقم براڈشیٹ کو اس لئے ادا کی گئی کہ نیب کی جانب سے معاہدہ ختم کرنے کے بعد براڈشیٹ ان رقوم سے محروم ہوگئی جو وہ ریکور "کر سکتی تھی" اور معاہدے کے ناقابل تنسیخ ہونے کی وجہ سے اس کا ان رقوم پر "حق" بنتا تھا۔ یعنی اسے حصہ ریکوری میں سے نہیں بلکہ صرف خیالی رقوم میں سے دیا گیا۔
اس خیالی رقم کے تعین کے لئے براڈشیٹ نے نیب کے ان دعووں کو بنیاد بنایا جو نواز شریف کے خلاف نیب نے پاکستان کی احتساب عدالت میں کئے۔ نواز شریف کے اثاثوں سے متعلق جو اعدادوشمار بنا ثبوت بڑھا چڑھا کر بیان کئے گئے انہیں فیصلے کی بنیاد بنا کر براڈشیٹ کو 20.5 ملین پاؤنڈ ایوارڈ کئے گئے۔
مزے کی بات یہ کہ نیب نے اپنے دفاع میں یہ ذکر کرنا ہی ضروری نہیں سمجھا کہ نواز شریف کے خلاف ایک فیصلہ عدم شواہد کی بنیاد پر ہائیکورٹ سے معطل ہو چکا ہے اور دوسرے میں جج دباؤ میں فیصلہ دینے کا اعتراف کر چکا ہے۔
مزید جاننے کے لئے پہلی ٹویٹ میں دئے گئے یوٹیوب لنک پر کلک کریں۔
You can follow @SaudSami.
Tip: mention @twtextapp on a Twitter thread with the keyword “unroll” to get a link to it.

Latest Threads Unrolled:

By continuing to use the site, you are consenting to the use of cookies as explained in our Cookie Policy to improve your experience.