معمولی طاقتور انجن طاقتور ایکٹو ریڈار بہتر الیکٹرانک وار فیئر بغیر اواکس جہازوں کی راہنمائی سے ڈیڑھ سو کلومیٹر تک مخالف جہاز کو میزائل مارنے کی صلاحیت ایک ویپن سٹیشن زیادہ .......ان میں سے کافی چیزیں ڈبل سیٹ بریوو میں بھی ہیں لیکن دس پندرہ فیصد انجن پاور کم ہونے کی وجہ سے
ذرا کم پیمانے پر ..........بلاک تھری ایف سولہ بلاک ستر کا اکانومی پیک سمجھ لیں ..........اس سے اور بلاک بی سے فائر ہونے والا جہاز شکن پی ایل پندرہ میزائل دنیا کا سب سے لانگ رینج میزائل ہے جیٹ فائٹر کے لئے اڑھائی سو اور سست رفتار جہازوں کے لئے تین سو کلومیٹر رینج ........
لیکن فل رینج پر اسے کم انجن پاور کے باعث بلاک تھری کا ریڈار بھی اواکس جہاز کے ریڈار سے ڈیٹا لنک کے بغیر نہیں فائر کر سکتا ..........پی ایل پندرہ میزائل کو فل رینج پر بمشکل جے ٹین سی کا ریڈار گائیڈ کر سکتا ہے اس کے لئے جے گیارہ جے سولہ اور جے بیس جیسے طاقتور انجنوں
اور سائز کے باعث ہیوی ڈیوٹی زیادہ کرنٹ کھانے والے ریڈار گائیڈ کرسکتے ھیں ...........بہرحال بلاک تھری انجن پاور اور وزن اٹھانے کو چھوڑ کر ٹیکنالوجی میں پاکستان ایئر فورس کے لیٹسٹ ایف سولہ بلاک باون کو پیچھے چھوڑتا ہے .........رافیل یا سخوئی جتنی ہیوی زمینی کاروائی نہیں کر سکتا
لیکن دو سو کلومیٹر پلس فاصلے سے ان کی منجی ٹھوک سکتا ہے .......پاکستانی ایف سولہ کی صلاحیت ایک سو بیس امریکی کی ڈیڑھ سو رافیل کی ڈیڑھ سو ...........سخوئی میراج اور مگ انتیس کی سو کلومیٹر ہے ...........
روس کے پاس ڈیڑھ سو کلومیٹر رینج کے ایئر ٹو ایئر میزائل اور بہت ہی طاقتور ریڈار ہیں لیکن وہ اپنے سخوئی تیس کے جدید ماڈلز سخوئی پینتیس اور اب سخوئی ستاون کے ساتھ استعمال کرتا ہے امید ہے وہ نتھورام کو یہ دے کر ان کی "بیستی "نہیں کروائے گا
سخوئی تیس کی طرح پی ایل پندرہ فی الوقت دنیا کے تمام فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کو واضح برتری سے آؤٹ رینج کرتا ہے کارکردگی کا پتہ تو استعمال پر ھی چلے گا رفتار چارہزار کلومیٹر تک بذات خود چھوٹے الیکٹرانک ریڈار سے لیس ..........
اور کسی بھی جہازسے کہیں زیادہ ہائی جی ٹرن پر مڑ کر شکار کے پیچھے جانے کی صلاحیت والا بتایا جاتا ہے ...........
#__ᏕᎥᎮᏂᏗᎥ
#__ᏕᎥᎮᏂᏗᎥ
Read on Twitter