زرتشت کون تھا؟

زرتشت کی پیدائش حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے 660 ق م میں ہوئی اور اس کی وفات 583ق م میں ہوئی۔

قدیم ایران کا مفکر اور مذہبی پیشوا۔ آذربائیجان کے مقام گنج میں پیدا ہوا ۔ جوانی گوشہ نشینی ، غور و فکر اور مطالعے میں گزاری ۔ بقول ان کی کتابوں کے اس کو سات بار
بشارت ہوئی۔ تیس برس کی عمر میں اہورا مزدا (اُرموز) یعنی خدائے واحد کے وجود کا اعلان کیا لیکن وطن میں کسی نے بات نہ سنی۔ تب مشرقی ایران کا رخ کیا اور خراسان میں کشمار کے مقام پر شاہ گستاسپ کے دربار میں حاضر ہوا۔ ملکہ اور وزیر کے دونوں بیٹے اس کے پیرو ہو گئے۔ بعد ازاں شہنشاہ نے بھی
اس کا مذہب قبول کر لیا۔ کہتے ہیں کہ تورانیوں کے دوسرے حملے کے دوران بلخ کے مقام پر ایک تورانی سپاہی کے ہاتھوں قتل ہوا۔

کوروش اعظم اور دارا اعظم نے زرتشتی مذہب کو تمام ملک میں حکماً رائج کیاایران پر مسلمانوں کے قبضے کے بعد یہ مذہب اپنی جنم بھومی سے بالکل ختم ہوگیاآج کل اس کے پیرو
جنہیں پارسی کہا جاتا ہے ، ہندوستان ، پاکستان ، افریقہ ، یورپ میں بہت قلیل تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

خیال رہے بعض کے نزدیک کوروش اعظم ہی اصل میں حضرت ذوالقرنین تھے۔جن کا تذکرہ قرآن حکیم میں آیا ہے۔ ان کے نزدیک زرتشت شائد کوئی نبی تھے جن کی تعلیمات کو بعد میں ان کے پیروکاروں نے
شیطان کے نرغے میں آکر تبدیل کردیا۔ جیسا عیسائیوں اور یہودیوں نے حضرات انبیاء کی تعلیمات کو شیطان کے ورغلانے سے تحریف کردیا ۔میری حساب سے کوروش اعظم اور حضرت ذوالقرنین کا تاریخی دور ایک ہی لگتا ہے۔
باقی اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

بہرحال ان کی کتابوں کے مطابق زرتشت ثنویت کا قائل تھا۔
اس کا دعوی تھا کہ کائنات میں دو طاقتیں (یا دو خدا) کارفرما ہیں۔ ایک" اہورا مزدا" (یزداں) جو خالق اعلیٰ اور روح حق و صداقت ہے اور جسے نیک روحوں کی امداد و اعانت حاصل ہے۔ اور دوسریاہرمن " جو بدی جھوٹ اور تباہی کی طاقت ہے ۔ اس کی مدد بد روحیں کرتی ہیں۔ ان دونوں طاقتوں یا خداؤں کی
ازل سے کشمکش چلی آرہی ہے اور ابد تک جاری رہے گی ۔ جب "اہورا مزدا" کا پلہ بھاری ہو جاتا ہے تو دنیا امن و سکون اور خوشحالی کا گہوارہ بن جاتی ہے اور جب اہرمن غالب آجاتا ہے تو دنیا فسق و فجور گناہ و عصیاں اور اس کے نتیجے میں آفات ارضی و سماوی کا شکار ہو جاتی ہے۔ پارسیوں کے اعتقاد کے
مطابق بالآخر نیکی کے خدا یزداں کی فتح ہوگی اور دنیا سے برائیوں اور مصیبتوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔

زرتشتی مذہب کے تین بنیادی اصول ہیں۔ گفتار نیک ، پندار نیک ، کردار نیک ۔ "اہورا مزدا" کے لیے آگ کو بطور علامت استعمال کیا جاتا ہے کہ کیوں کہ یہ ایک پاک و طاہر شے ہے اور دوسری چیزوں کو
بھی پاک و طاہر کرتی ہے۔ پارسیوں کے معبدوں اور مکانوں میں ہر وقت آگ روشن رہتی ہے غالباً اسی لیے انہیں آتش پرست سمجھ لیا گیا ۔ عرب انھیں مجوسی کہتے تھے۔

مجوسی یا پارسی لوگوں پر جلد ہی ایک الگ پوسٹ ہوگی۔ ان شاء اللہ
آتش زرتشت کے متعلق ایک دلچسپ با ت بیان کی جاتی ہے کہ یہ آگ ہزاروں
سال سے جل رہی تھی اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت ہوئی تو خودبخود بجھ گئی۔ جس سے مجوسیوں نے کہا تھا کہ ضرور دنیا میں کسی خاص الخاص انسان کی پیدائش ہوئی ہے ۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں اایسا زرتشت بتا گیا تھا۔

زرتشت کے نزدیک آگ کا وجود چار مقدس عناصر سے ہوا،مٹی،
پانی،ہواآگ اس کے مطابق مٹی،پانی،ہوا آگ میں سب سے زیادہ پاک اور مقدس آگ ہے،اس لیے زرتشت نے یا اس کے پجاریوں نے معبدوں کے سامنے یہ آگ جلائی تاکہ اس کے سامنے پوجا کی جاسکے۔رفتہ رفتہ ان کے نزدیک صرف آگ ہی عبادت کا محور بنکر رہ گئی اور یوں آتش زرتشت کی وجہ سے پارسی آتش پرست بن گئے.
You can follow @SyEdA_GuLwiSh.
Tip: mention @twtextapp on a Twitter thread with the keyword “unroll” to get a link to it.

Latest Threads Unrolled:

By continuing to use the site, you are consenting to the use of cookies as explained in our Cookie Policy to improve your experience.